پاکستانی ڈرامہ آفر ہوا تو اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گا انگین آلتان،” ارطغرل غازی” کا پاکستان کے حوالے سے اظہار محبت

لاہور( ویب ڈیسک )ارطغرل غازی کے نام سے پاکستان کے گھر گھر میں جانے جانے والے معروف ترکش اداکار انگین آلتان نے
“یارِ من ترکی” یو ٹیوب چینل ، پی ٹی وی اور ترک میڈیاٹی آر ٹی- اردو کو مشترکہ انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان اور پاکستانی عوام سے اپنی دلی محبت کا کھل کر اظہار کیا۔اس تفصیلی گفتگو میں جہاں ان کے کیرئیر ،ذاتی زندگی اور ارطغرل غازی ڈرامے کے حوالے سے انگین نے اپنے تاثرات بیان کیے وہیں پاکستان کے حوالے سے پوچھے گئے سوالوں کے محبت بھرے جواب دے کر پاکستانی عوام کا دل ایک بار پھر جیت لیا۔
انگین سے پوچھا گیا کہ پاکستان میں آپ کی بہت بڑی فالوونگ ہو گئی ہے یہاں تک کہ پاکستانی سیاست دان یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ انگین آلتان اگر الیکشن میں کھڑا ہوگیا تو لازمی جیت جائےگا۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
انگین نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ” یہ آپ لوگوں کی ذرہ نوازی ہے۔میں آپ سب کو مشکور ہوں جنہوں نے اتنی محبت ہم پر نچھاور کی ہے۔ اتنی محبت سے چاہا جانا بھی ایک بہت ہی خوبصورت عمل ہے۔پاکستان ہمارا برادر اور دوست ملک ہے۔ہم نے اپنا بچپن ، پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کے جذبات لے اظہار میں گزارا ہے۔ ہم اسی برادر ملک کی محبت اور چاہت ہی میں پلے بڑھے ہیں۔ میں اس سے بہت پہلے ایک فلم میں حصہ لے چکا ہوں ۔ یہ ایک جنگی فلم تھی، فلم کا نام تھا” انا دولو کارتال” ۔ اس فلم میں حصہ لینے کے لیے پاکستان سے پائلٹ آئے تھے۔ ہم ان کے ساتھ بھی بڑے اچھے طریقے سے گھل مل گئے تھے۔ یہ سب کچھ پاکستان کے ساتھ ہم ترکوں کی محبت کی وجہ سے تھا۔ ایک برادر ملک ہونے کے ناتے تھا۔اس طرح اپنے ایک برادر ملک پاکستان سے اس قدر محبت کے اظہار نے مجھے بڑا جذباتی بنادیا ہے۔ میں ویسے ہی پاکستان کا بہت بڑا مداح ہوں۔لیکن میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ سیاست، سیاست دانوں کا کام ہے اور میں ایک داکار ہوں ہو اور میرا کام اداکاری ہے۔ سیاست میں حصہ لینے کا کام پر ہی چھوڑ دینا چاہیے۔”
ارطغرل غازی ڈرامہ سیریز کے پاکستان میں اس قدر مقبول ہونے کے حوالے سے انگین کا کہنا تھا کہ” پا کستانیوں کی یہ محبت ایک برادر اور دوست ملک ہونے کی وجہ سے ہے، سینٹرل ایشیا ممالک میں بھی اس ڈرامے کو بے حد پسند کیا لیکن پاکستان مِن اس ڈرامے نے ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کردیے۔عرب ممالک میں بھی اسے بڑا پسند کیا گیا ۔ میرا خیال ہے کہ اس کی بڑی وجہ ہمارا مشترکہ مذہب ہے اور اسی وجہ سے ان تمام ممالک میں اس ڈرامے کو بے حد پسند کیا گیا ۔پاکستان اور ترکی ویسے بھی ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور دونوں نے ایک جیسی ثقافتی اقدار اور روایات کے مالک ہیں۔ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی دیکھتے ہیں کہ ان مشترکہ اقدار ہی کی بدولت پاکستان کے عوام نے اس ڈرامے میں گہری دلچسپی لی ہے اور ہم بھی پاکستانیوں کی اس محبت اور چاہت کو اپنے دلوں کے اندر اندر محسوس کرتے ہیں اور اسے اپنی زندگی کا ایک حصہ بنائے ہوئے ہیں۔”
پاکستانی ڈراموں میں کام کی آفر ہوئی تو کیا قبول کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں انگین آلتان کا کہنا تھا کہ”جی ہاں، بڑی خوشی سے۔ کیوں نہ کام کروں، میں پہلے ڈرامے کا سینریو اور کہانی دیکھوں گا اور اگر ڈرامے کا سینریو Scenario اور کہانی میری خواہشات کے مطابق ہوگا تو لازمی طور پر میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھوں گااور مجھے اس ڈرامے یا فلم میں کام کرتے ہوئے خوشی محسوس ہوگی اور اس طرح پاکستانی عوام کی محبت کا قرضہ بھی چکا دوں گا۔ پاکستان سے اتنی گہری محبت، لگاو اور چاہت ملے گی۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا یہ سب میرے لیے فخر کا باعث ہے۔ میں اس محبت اور چاہت کودر حقیقت دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہوں۔ سوشل میڈیا سے جو پیغامات موصول ہو رہے ہیں، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے ۔ان سب باتوں سے اچھی طرح آگاہ ہوں ۔ یہ سب کچھ ہم تک پہنچ جاتا ہے ۔ میں سب سے پہلے پہلے ان کی اس محبت اور چاہت کا مشکور ہوں اور انشاللہ جلد ہی پاکستان پہنچ کر پاکستانی عوام کے رو برو ان سے اپنی محبت کا بھی اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔میں حالات کے بہتر ہونے پر جلد از جلد پاکستان آنا چاہتا ہوں تاکہ پاکستانی عوام کو اپنے گلے لگا کر اپنی محبت اور چاہت کا اظہار کرسکوں ۔ چاہت اور محبت کی یہ آگ دونوں طرف سے لگی ہوئی ہے اور پاکستان پہنچ کر اس محبت کا خود اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ میں ایک بار پھر آپ اور پاکستانی عوام کا مشکور ہوں جنہوں نے اپنے محبت کے دروازے ہم پر کھول رکھے ہیں۔”
اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سےانگین نے بتایا کہ ” میں سال 1979 میں ازمیر میں پیدا ہوا۔ میں نے دوکوز، اےلول (Dokuz Eylul) یونیورسٹی میں شعبہ فلم اور تھیٹر سے گریجویشن کی۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میں مستقل طور پر استنبول میں رہائش پذیر ہوگیا۔اور گزشتہ 20 سال سے استنبول میں پیشہ ور اداکار کی حیثیت سے سے خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ مجھے انگریزی زبان آتی ہےاور ترکی زبان میری مادری زبان ہےاس کے علاوہ کوئی اور زبان نہیں جانتا ہوں۔آج کل آپ دیکھتے ہوں گے، میں عام طور پر گھر پر ہی ہوتا ہوں اور اپنا زیادہ تر وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارتا ہوں۔ میں دراصل ان انسانوں میں سے ایک ہوں جو اپنا زیادہ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارنے پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں آج کل بہت خوش ہوں کیونکہ میں اپنا زیادہ وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزار رہا ہوں۔ بچوں کی کی پرورش اور ان کی دیکھ بھال کی طرف بھر پور توجہ دے رہا ہوں جو میرے لیے خوشی کا باعث بھی ہے۔( بشکریہ ٹی آر ٹی اردو)

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *